گمشدہ لوگ

GUMSHUDA LOG: Urdu book by Agha Nasir. Publisher: Sang e meel publishers, Lahore.

Review by: Dr. Afaq Ahmad Qureshi.

تبصرہ: ڈاکٹر آفاق احمد قریشی۔

مصنف : آغا ناصر

سنگ میل پبلیکیشنز۔ لاہور

صفحات ۲۷۹

قیمت ۱۲۰۰ روپے

سن اشاعت ۲۰۱۳

زیر نظر کتاب ہمارے ریڈیو اور ٹی وی کے جانے پہچانے نام آغا ناصر کے خاکوں کا مجموعہ ہے مگر آغا صاحب خود اان تحریروں کو خاکے کہنے سے گریزاں ہیں۔ صفحہ ۱۲ پر وہ رقمطراز ہیں “میرے نزدیک یہ تحریریں صرف میرے احساسات اور تاثرات کے اظہار کا ذریعہ ہیں”۔ یہ سب وہ لوگ ہیں جو انکی زندگی میں انکے محبوب رہے۔ فیض احمد فیض سے لے کر ن م راشد، احمد فراز، اور صادقین تک کے بارے میں بھرپور اور روح پرورمضامین ہیں جنہیں پڑھ کر یہ احساس شدت سے ابھرتا ہے کہ ہمارا معاشرہ ایسا بھی بانجھ نہیں تھا۔ انتظار حسین نے اپنے دیباچے میں لکھا ہے کہ آغا صاحب نے گمشدہ لوگوں کو حاضر و ناظر کر دیا ہے۔ ممتاز مفتی نے مصنف اور کتاب کے بارے میں اپنے مخصوص انداز میں “ٹھنڈا میٹھا” کے عنوان سے ایک دلچسپ مضمون لکھا ہے۔ وہ مصنف کو ایک نیک ادمی، تخلیق کار،منجھا ہوا کہانی کار اور ادیب کے طور پر متعارف کراتے ہیں اور یہ حقیقت ہے کہ کوئی کچھ بھی کہے، اس کتاب کے مندرجات نہایت اعلی ادبی تقاضوں کو بخوبی پورا کرتے ہیں۔

آغا صاحب کو فیض سے عشق تھا۔ انہوں نے پہلا شذرہ بھی انہی کے بارے میں لکھا ہے اور صاحب کیا خوب لکھا ہے۔ لگتا ہے جیتے جاگتے فیض صاحب کی زندگی کو براہ راست پردہء سیمیں پر دیکھ رہے ہیں۔ اس کتاب کی اشاعت سے دو برس پہلے آغا صاحب نے فیض کی شاعری کے بارے میں ایک انتہائی منفرد کتاب شاہع کی تھی، “ہم جیتے جی مصروف رہے”۔

آغا صاحب ڈاکٹر آفتاب احمد کی کتاب سے ایک انتہائی خوبصرت اقتباس لیتے ہیں اور شاعر کی شخصیت کو ایک کوزے میں بند کر دیتے ہیں۔ “انہیں کتابوں سے زیادہ انسانوں سے محبت تھی۔ وہ کبھی کسی پر غصہ نہیں کرتے تھے۔ نفرت نام کی چیز سے وہ نا آشنا تھے۔ ان کو لوگ اچھے لگتے تھے۔ مگر ذاتی دکھ کو وہ خود جھیلتے تھے۔”-

آغا ناصر کمال کے فنکار ہیں۔ کسی شخصیت سے ملواتے ہیں تو ایک غیر محسوس طریقے سے خود وہاں سے غائب ہو جاتے ہیں اور آپ اس شخصیت کو اچھی طرح دیکھ سکتے ہیں، سمجھ سکتے ہیں۔ اردو کے بیشتر خاکوں میں مصنف آپ کی انگلی پکڑ کر اپنے ممدوح سے آپکا تعارف کرواتا ہے مگر آغا صاحب کا اسلوب ہی نرالا ہے۔ زیڈ اے بخاری کا خاکہ اس کی بے حد خوبصورت مثال ہے۔ بخاری صاحب کی ذات اور صفات کے بارے میں آپ اتنا کچھ اس اچھے انداز سے اور کہیں نہیں ڈھونڈ پائیں گے۔ انکی ذاتی اور دفتری زندگی، ماتحتوں سے تعلقات، دیانت اور محنت کا معمول، شاعری، دوستی اور نشست و برخاست اس خوبصورت طور پر سپرد قلم کئے گئے ہیں کہ بے اختیار منہ سے واہ واہ نکل جاتی ہے اور انسان اپنی روح میں ایک عجب سرشاری محسوس کرتا ہے۔ وہ عہد زریں یاد دلاتا ہے جب بڑے عہدوں پر خاندانی, نجیب اور اعلی تعلیمیافتہ لوگوں کی رسائی ہوتی تھی۔ یہ پاکستان کی ابتدائی دو دہائیوں کی داستان سمجھ لیں جب زرداری اور نواز شریف اور ضیا الحقی غلاظت ہم سے کوسوں دور تھی اورلوگ ملکی مفاد اور اسکی اہمیت کو بخوبی پہچانتے تھے۔ اس وقت تک قومی خزانے کو شیر مادر سمجھ کر ہڑپ کرنے کا رواج بھی نہیں تھا اور اپنے کام کو پوری دیانت اور تندہی سے انجام دینا ایک مذہبی فریضے کا درجہ رکھتا تھا۔

بخاری صاحب کے خاکے میں آغا صاحب انکی زندگی کے منفی پہلو اور ناکامیوں کے بارے میں بھی بتاتے ہیں اور کوئی لگی لپٹی رکھے بغیر ہر واقعہ ضبط تحریر میں لے اتے ہیں- وہ پہلے بغیر کسی لمبی چوڑی تمہید کے اس شخصیت کا مختصر تعارف کرواتے ہیں اور اسکی وجہء شہرت کا اعادہ کرتے ہیں۔ پھر وہ ان مواقع کی نشاندہی کرتے ہیں جب انکی اپنے ممدوح سے ملاقات ہوتی ہے اور وہ کسطرح ذاتی دوستی میں بدل جاتی ہے۔ صادقین کی یادداشت میں انکا یہ اسلوب کھل کر، نکھر کر سامنے آتا ہے اور کتاب کے آخر تک قاری کو مسحور کئے رکھتا ہے۔

ریاض فرشوری’ پروین شاکر ‘ مصلح الدین ‘ احمد سلیم’ خواجہ معین الدین ‘اطہر علی ‘ غفاری بیگم اور احمد فرازکی یاد داشتوں میں ہمیں ان نامور افراد کی زندگی کے اتنے بے شمارپہلوؤں سے آشنائی ہوتی ہے جواور کسی طریقے سے ممکن ہی نہیں ہے-

یہ کتاب جہاں خاص طور پر اردو کے اساتذہ اور طلبا کے لئے خصوصاً اور پڑھنے والوں کے لئے بے حد موزوں و آج کی بد زبانی کے دور اعلی ترین زبان سے لطف اندوز ہونا چاہتے ہیں- کاش ہمارے ملک میں کتاب اور پڑھائی کی عادت ذرا مقبول ہوتی تو یہ کتاب اس قابل ہے کہ ہر پڑھا لکھا انسان اس سے لطف اندوز ہو اور بار بار اسے پڑھے اور جذب کرےہ

Published by Dr. Afaq Ahmad Qureshi

Physician, writer, broadcaster, journalist, translator, free lance writer, poet, political and social analyst and critic. Writes plays and features for electronic media, interested in numerous things from sociology to medicine to history and art. interest in books and internet, writes for http://www.blogcritic.com also; editor for an internet journal; at http://twitter.com/dr_afaqaq.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

My Notes: Dr. Afaq Ahmad Qureshi

Its about Pakistan, the world, the people, culture, and books.

ہم سب

ہم سب مل کر چلیں گے

A CUP OF COFFEE WITH YOUR CREATOR

WORDS TO ENCOURAGE YOU DAILY....TO ENCOUNTER LIFE WITH A NEW PERSPECTIVE

The Justice Mirror

Latest News, Analyses, Opinions, and much more.

TheKop Curva CrossOver

All Things Milan & Liverpool

%d bloggers like this: