ہم عظیم قوم ہیں : (۲)۔

ہم پاکستان میں قابلیت اور میرٹ کو رائج کیوں نہ کر سکے۔

ایک تجزیہ: ڈاکٹر آفاق احمد قریشی

ایک عظیم الشان ماضی ہے ہمارا ۔ ہم اٹھتے بیٹھتے دنیا کو بتاتے ہیں کہ کس طرح ہمارے خلفاۓ راشدین نے انصاف اور عدل کے معیار قائم کئے۔ لیکن گھر واپس جا کر اور کام یا کاروبار کرتے وقت ہم ان سب معیارات کو فراموش کر دیتے ہیں۔ ہماری زیادہ آبادی دیہی ہے اور وہاں کا زمیندار / وڈیرہ ہمارے خدا ہیں۔ انہیں مکمل استحقاق ہے کہ وہ مزارعین کی بہو بیٹیوں کو عیاشی کے لئے اٹھا کر اپنے یا دوستوں کے ڈیرے پر لے جائیں۔ کاشتکار کی مٹھی بھر زمین کو پانی لگانے کے جرم میں موت سمیت کوئی بھی سزا دے سکتے ہیں۔ یہی لوگ ہمارے ممبران اسمبلی بنتے ہیں اور ہمارے حکمران بنتے ہیں۔ ستر سال سے یہ مکروہ کھیل جاری ہے لیکن عدل اور انصاف کی مجال نہیں کہ ہماری معاشرت میں مداخلت کر سکیں۔ ان لوگوں کے لئے مخالفین کو قتل کرنا ایک کھیل ہے جو وہ جی بھر کے کھیلتے ہیں۔ اس قتل کے جرم میں انہی کا کوئی مزارع تھانے اور جیل کی ہوا کھاتا ہے۔ بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ ان کے خداؤں کو سزا ہو۔ وہ بخوشی پھانسی کا پھندا اپنے گلے میں ڈال لیتے ہیں۔ انکی لینڈ کروزر اگر لاپرواہ ڈرائیونگ کی وجہ سے کسی سرکاری اہلکار کو کتے کی طرح کچل ڈالے تو ہماری اعلی عدالتیں انہیں شک کا فایدہ دیتے ہوئے بری کر دیتی ہیں تاکہ وہ اسمبلیوں میں جا کر ہماری نسلیں سنوار سکیں۔ ہم نے قسم کھائی ہے کہ ہم اسوقت تک کسی کو ووٹ نہیں دیں گے جب تک وہ ایک چمچماتی ہوئی 3000 سی سی سے زائد انجن کی مہیب مگر آرام دہ جیپ میں ہمارے علاقے کا دورہ نہ کرے۔ اسکی جہالت تو اسکا طرہ امتیاز ہے۔ بھلا رعب داب کے بغیر بھی کوئی حکمران بن سکتا ہے؟ شہروں میں ہم صنعتکار اور سرمایہ دار کو پوجتے ہیں۔ آخر کسی اور میں اتنی سکت کہاں کہ وہ باقاعدگی سے ہمارے گھروں میں راشن بھیج سکے۔ ہمارے بچوں کو اپنے ہاں ملازمت دے سکے اور ہماری ضرورت کے موبائل فون دلوا سکے؟ ہم بھلا کسی پڑھے لکھے متوسط آدمی کا انتخاب کیوں کریں؟ وہ تو تھانیدار کو کہہ کر ہمارے غنڈوں کو نہیں چھڑائے گا۔ ہماری تو ساری زندگی ہی اس جدوجہد میں گزرتی ہے کہ قبیلے یا خاندان میں ہماری ٹوہر ہو، لوگ مشکل وقت میں ہمارے در پر گڑگڑائیں اور مدد کی بھیک مانگیں۔ یہ ہوتا ہے اونچے شملے کی شان و شوکت کا مظاہرہ! یہی مقصد حیات ہے۔ اور بھئی انصاف اور عدل تو کوئی ہمارے خلفاء -راشدین سے سیکھے!


کئی سو برس گزر گئے جب 712ء میں ہمارا بہادر سپہ سالار محمد بن قاسم دیبل کے ساحلوں پر لنگر انداز ہوا اور راجہ داہر کو شکست فاش دی۔ اس وقت سے لے کر ہم مسلمانوں نے 1857ء تک برصغیر پر حکومت کی۔ یہ مطلق العنان حکمران تھے۔ کسی کی مجال نہیں ہوتی تھی کہ وہ بادشاہ وقت کے انداز حکمرانی پر انگلی اٹھا سکے۔ ان میں سے کئی نے تو ثقافت، علم و ہنر اور لکھنے والوں کی سرپرستی بھی کی۔ لیکن کسی بھی دور میں کسی دانشور کی مجال نہیں تھی کہ وہ حکمرانی کا کوئی نیا انداز متعارف کروا سکے۔ ایسے بدتمیز کی تو وہ زبان گدی سے کھینچ لیا کرتے تھے۔ ماشا اللہ کیا رعب اور دبدبہ تھا ہمارے شاہوں کا۔دسویں صدی کے بعد کافروں کے یورپ نے احیاۓ علوم کو گلے لگا لیا تھا لیکن کمال ہے ہمارے بادشاہوں کا کہ انہوں نے ایسی بدعات کو اپنے سے کوسوں دور رکھا اور مطلق العنانیت کا علم بلند رکھا۔ اورنگ زیب عالمگیر کو جب جزائر برطانیہ کا پتا چلا تو اس نے ویسے اپنے اتالیق سے ضرور کہا تھا کہ آپ تو ہمیں یہ سکھاتے رہے کہ دنیا کی ابتدا اور انتہا ہمارا ہندوستان ہی ہے۔ ہمارے عظیم شاہوں کے دور میں علوم و فنون کا بول بالا ہوتا تھا۔ شاہجہاں نے تاج محل بنوانے کے بعد معماروں کی انگلیاں کاٹ ڈالی تھیں کہ کہیں وہ لالچی ہو کر اسی طرح کی کوئی اور عمارت نہ بنا پائیں۔ دیکھا آپ نے صاحب فن کا کتنا خیال رکھتے تھے وہ لوگ! اور ذرا ان کافروں کی دیدہ دلیری ملاحظہ کریں کہ صنعت و حرفت کو حرز جاں بنا بیٹھے اور کئی یونیورسٹیاں قائم کر ڈالیں۔ ان درس گاہوں نے مسقبل کے علم و دانش کی آبیاری کی اور پھر یورپ بھر سے نئے حقائق اور ایجادات کے دور کا آغاز ہو گیا۔ لیکن ہمارے بادشاہ دنیا کو اہمیت ہی کہاں دیتے تھے۔ انہیں علم تھا کہ انسان فانی ہے اسلئے رعایا کے بچوں کو لادین کیوں بنایا جائے؟ انہوں نے سختی سے ہر لادین جدوجہد کو مسل کے رکھ دیا ورنہ تو نیچ ذات کے بچے ڈگریاں حاصل کرکے خود کو حکومت کا اہل گردانتے۔ کتنی غلط روایت پڑ جاتی۔ ٹھیک ہے ہمارے مذہب میں ذات پات کی جگہ نہیں تھی لیکن آخر دنیاداری بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔ ہم نے بھی براہمن کے مقابلے میں سید لا کھڑے کئے اور جن لوگوں کو یورپ میں استاد کی جگہ دی گئی ہم نے انہیں لوہار، ترکھان، جولاہے اور کمی کمین قرار دیا تاکہ وہ علم حاصل کر کے اعلی نسلوں کی برابری کا سوچ بھی نہ سکیں۔ وہاں مونگ پھلی فروش اور بس کنڈکٹر کے بچے صدارت اور وزارت عظمی پر فائز ہوتے گئے اور ہم یہاں نسلی برتری کے احساس تفاخر میں غرق احتسابی روایات سے بالا بنتے چلے گئے۔ کیا ہوا اگر عالمگیر نے اپنے تمام بھائیوں کو قتل کروا دیا؟ خود تو بیچارے نے ٹوپیاں سی کر ہی سادہ زندگی گزاری نا!712ء سے 1857ء کے طویل عرصے میں ہمارے شاہوں نے مشاورت سے بالا ہو کر فیصلے کئے جس سے انکی خودداری کا بھی پتا چلتا ہے۔ دربار میں نمایاں مقام معدودے چند لوگوں کو عطا ہوتا تھا اسلئے وہ ان لوگوں کے لئے مختص تھا جو جی حضوری، خوشامد، اور ہو قصیدہ گوئی میں سب سے اعلی تھے۔ ہماری ثقافت میں تو میرٹ نام کی کوئی چیز شامل ہی نہیں 

Published by Dr. Afaq Ahmad Qureshi

Physician, writer, broadcaster, journalist, translator, free lance writer, poet, political and social analyst and critic. Writes plays and features for electronic media, interested in numerous things from sociology to medicine to history and art. interest in books and internet, writes for http://www.blogcritic.com also; editor for an internet journal; at http://twitter.com/dr_afaqaq.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

My Notes: Dr. Afaq Ahmad Qureshi

Its about Pakistan, the world, the people, culture, and books.

ہم سب

ہم سب مل کر چلیں گے

A CUP OF COFFEE WITH YOUR CREATOR

WORDS TO ENCOURAGE YOU DAILY....TO ENCOUNTER LIFE WITH A NEW PERSPECTIVE

The Justice Mirror

Latest News, Analyses, Opinions, and much more.

TheKop Curva CrossOver

All Things Milan & Liverpool

%d bloggers like this: