ھم جیتے جی مصروف رہے۔

فیض احمد فیض اور ان کی شاعری کے بارے میں ایک منفرد اور اعلی ذوق کی حامل کتاب۔

مصنف: آغا ناصر۔

سال طباعت : ۲۰۱۱۔۔

سنگ میل پبلیکیشنز۔ لاہور۔

صفحات: ۳۴۹

قیمت: ۱۵۰۰

پاکستانی ادب اور اردو کا نام جہاں بھی آۓ گا ہم ہمیشہ فیض احمد فیض کو یاد کریں گے اور یہ سلسلہ تا قیامت چلتا رہے گا۔ انہوں نے اپنی لازوال شعری روایت میں محبوب اور وطن کو اتنے احسن طریق سے یکجا کیا ہے کہ چاہنے کے باوجود انہیں الگ الگ نہیں کیا جا سکتا-

آغا ناصر ہمارے معروف براڈ کاسٹر اور ٹیلی وژن کی شخصیت رہے ہیں۔ انہیں اپنی انتھک محنت کی وجہ سے صدارتی تمغہ حسن کارکردگی بھی مل چکا ہے۔ آغا صاحب نے کم لکھا مگر صاحب کیا خوب لکھا۔ زیر نظر کتاب میں بھی آغا ناصر نے بے داغ اردو لکھی ہے اور بے شمار پڑھنے اور لکھنے والوں کی شرمندگی کا اہتمام کیا ہے خاص کر ان لوگوں کے لئے جن کے نزدیک جاسوسی ڈائجسٹ’ اور سسپنس ڈائجسٹ پڑھنے کا مطلب ہوتا ہے کہ قاری بے حد پڑھا لکھا انسان ہے- حوالے کے لئے آپ بک کارنر جہلم سے داڑھی والا نامی کتاب کا حوالہ مانگ سکتے ہیں-

زیر نظر کتاب اپنی نوعیت کی غالباً اردو کی پہلی کتاب ہے جس میں آغا صاحب نے بے حد کامیاب کوشش کی ہے کہ فیض صاحب کی چند بے مثل منظومات/غزلیات کا پس منظر بیان کیا جاۓ۔ وہ یہ کام فیض مرحوم سے کروانا چاہتے تھے لیکن ان کے انتقال کے بعد انہوں نے فیض کے اہل خانہ اور قریبی دوستوں کی مدد سے یہ کام اپنے ذمے لیا اور بخوبی نبھایا۔ قیام پاکستان کے بعد انکی پہلی نظم “صبح آذادی” تھی۔ اس پر چند سطحیت پسندوں نے فوراً ہی انہیں پاکستان دشمن، کمیونسٹ وغیرہ کے القابات سے نواز دیا۔ یہ مشہور شعر اسی نظم کا ہے:

یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحر

وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں

انہیں ملک دشمن قرار دینے والے عجلت میں یہ بھی فراموش کر گئے کہ اسی نظم کے آخر میں یہ شعر بھی آتا ہے :

“چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی”

اگست ۱۹۵۲ میں فیض صاحب حیدر آباد میں پس زنداں تھے اور عالمی حالات ایک نئی کروٹ لے رہے تھے جب انہوں نے کہا تھا کہ:

اہل قفس کی صبح چمن میں کھلے گی آنکھ

باد صبا سے وعدہ و پیماں ہوۓ تو ہیں۔ 

یہ اسی وقت کی بات ہے جب حسین شہیدسہروردی مرحوم نے ایلس فیض سے کہا تھا کہ ہو سکتا ہے اب میں آپ کے شوہر کو بچانے میں کامیاب ہو جاؤں۔ اصل میں ان دنوں چند اہم حلقوں میں یہ خبر شدت سے گردش کر رہی تھی کہ حکومت بدلنے والی ہے۔

ص ۴۷ پر آغا صاحب نے ایک بہت نمایاں بات کو اجاگر کیا ہے۔ سلیمہ ہاشمی نے ایوب مرزا کو یہ واقع سنایا تھا۔ “میرے ڈیڈی کمال کے آدمی ہیں۔ ایک دن سب کو صبح صبح اکٹھا کیا اور کہنے لگے کہ دعا مانگو! اب سارا گھر پریشان کہ یہ دعا کا کون سا موقع ہے، لیکن وہ کسی کی سنتے کہاں تھے اور شروع ہو گئے ۰۰۰

آئیے ہاتھ اٹھائیں ہم بھی 

ہم جنہیں رسم دعا یاد نہیں

ہم جنہیں سوز محبت کے سوا

کوئی بت، کوئی خدا یاد نہیں۔ 

ہم سب کو پتا ہے کہ یہ نظم بھی فیض کی دوسری بے شمار شاعری کی طرح لازوال ہے۔

انہی ایام اسیری میں فیض نے وہ قطعہ کہا تھا:

متاع لوح و قلم چھن گئی تو کیا غم ہے

کہ خون دل میں ڈبو لی ہیں انگلیاں میں نے

زباں پہ مہر لگی ہے تو کیا کہ رکھ دی ہے

ہر ایک حلقہ زنجیر میں زباں میں نے۔ 

حیدر آباد جیل میں قیام کے دوران انہوں نے دس بارہ مرتبہ شعر کی محافل برپا کیں جن میں سب دوست ایک مصرعہ طرح پر طبع آزمائی کرتے تھے۔ ۱۹ اگست ۱۹۵۲ کی رات فیض نے اپنی وہ زبان زد عام غزل سنائی:

رنگ پیراہن کا خوشبو زلف لہرانے کا نام 

موسم گل ہے تمہارے بام پر آنے کا نام

اور انکی یہ نظم تو ضرب المثل بن گئی کہ:

نثار میں تیری گلیوں کہ اے وطن کہ جہاں

چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلے۔ 

۱۹۵۹ میں فیض صاحب لاہور جیل میں مقید تھے۔ وہاں سے انہیں ایک شدید علالت کی وجہ سے ڈاکٹر کو دکھانے جانا پڑا اور وہ سفر ٹانگے پر ہؤا۔ فیض کی ذہن میں وہ نقوش اسطرح پختہ ہوئے کہ وہ بعد میں اس مشہور زمانہ نظم کے الفاظ میں ڈھل گئے۔

آج بازار میں پابجولاں چلو! 

جولائی ۱۹۷۷ میں منحوس ضیائی مارشل لاء لگا تو وہ فروری ۱۹۷۸ میں خود ساختہ جلا وطنی پر چلے گئے اور چار برس وہاں ہی گزار دئیے۔ اس تمام کرب کا اظہار انکی انمول کتاب “دل من مسافر من” میں ہؤا (ص ۷۸-۷۹)۔ اس نظم کے بارے میں روسی مصنفہ لدمیلا لکھتی ہیں کہ یہ تنہائی گھر میں بند رہنے والے کی نہیں بلکہ ہجوم اور آباد شہروں میں بھٹکنے والے انسان کی جان لیوا تنہائی ہے۔ ۱۹۸۱ ع میں فیض نے فلسطینی احباب میں رہتے ہوۓ “عشق اپنے مجرموں کو پا بہ جولاں لے چلا” لکھی جو یادگار ہے۔ بیروت میں قیام کے دوران ہر جگہ مصائب تھے۔ بیروت قیامت کا نقشہ پیش کر رہا تھا اور پاکستان میں جنرل ضیاء نے تباہی نازل کر رکھی تھی۔ فیض نے لکھا:

وہ در کھلا میرے غمکدے کا

وہ آ گئے میرے ملنے والے

ایفرو ایشیائی پس منظر میں انہوں نے لکھا تھا:

بول کہ لب آزاد ہیں تیرے!

ہ

سنگ میل والے عموماً اچھی اور مہنگی کتابیں چھاپتے ہیں لیکن اس کتاب پر ایسی کوئی خاص محنت نہیں کی گئی۔ اوسط درجے کی جلد کے درمیان اوسط یا اس سے بھی کم درجے کا کاغذ استعمال کیا گیا ہے۔ پروف ریڈنگ البتہ بے حد اعلی اور معیاری ہے۔ ایک مرتبہ شروع کر لیں تو آپکا دل کرتا ہے کہ اسے پڑھتے ہی چلے جائیں۔

Published by Dr. Afaq Ahmad Qureshi

Physician, writer, broadcaster, journalist, translator, free lance writer, poet, political and social analyst and critic. Writes plays and features for electronic media, interested in numerous things from sociology to medicine to history and art. interest in books and internet, writes for http://www.blogcritic.com also; editor for an internet journal; at http://twitter.com/dr_afaqaq.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

My Notes: Dr. Afaq Ahmad Qureshi

Its about Pakistan, the world, the people, culture, and books.

ہم سب

ہم سب مل کر چلیں گے

A CUP OF COFFEE WITH YOUR CREATOR

WORDS TO ENCOURAGE YOU DAILY....TO ENCOUNTER LIFE WITH A NEW PERSPECTIVE

The Justice Mirror

Latest News, Analyses, Opinions, and much more.

TheKop Curva CrossOver

All Things Milan & Liverpool

%d bloggers like this: