ایک کتاب / وتاب پر تبصرہ۔

داڑھی والا: ایک وتاب!

اردو کی ابتداء سے ہی ہماری نثری اور منظوم کتب کے نام بہت خوب صورت اور معنی انگیز ہوا کرتے تھے۔ اردو

کی یہ ادا مجھے بہت بھاتی ہے۔ چند قدیم اور جدید کتب کے نام ملاحظہ ہوں(یہ کسی لحاظ سے بھی ایک نمائندہ مکمل فہرست نہیں ہے۔ صرف نمونے کے چند نام ہیں جو فوری طور پر ذہن میں آ گئے):

باغ و بہار,فردوس بریں ,من و یزداں , فسانہء عجائب,مراۃ العروس,روزگار سفیر ,آواز دوست ,لوح ایام سفر نصیب, گئے ہوؤں کی جستجو,,گئے دنوں کا سراغ , کوہ ندا ,قبائے ساز ,مخزن (جریدہ)افکار (جریدہ) اوراق (جریدہ)فنون (جریدہ) سیپ (جریدہ) بانگ درا ,غبار خاطر, یادوں کی بارات ,آب گم ,مرے دل مرے مسافر ,زنداں نامہ بال جبریل, اداس نسلیں, آگ کا دریا ,آخر شب کے ہمسفر,کار جہاں دراز ہے,زرگذشت, شگوفے ۔۔۔ علی ہذا القیاس۔ مگر ,۲۰۲۱ کا سال تو ایک بالکل ہی نئی شان سے آیا ہے۔ غالباً پہلی مرتبہ اردو کے قاری ایک ایسی چیز پڑھیں گے جسکا نام ہی اجنبیت کا لبادہ اوڑھے ہوۓ ہے۔ میری مراد “داڑھی والا” نامی چیز سے ہے (اسے کتاب کہنا تو سراسر ظلم ہو گا)تسلیم کہ نیا پن اور جدید اختراعات زبان کا حسن ہوتی ہیں مگر اس نام سے کیا آپ توقع کر سکتے ہیں کہ یہ اردو ادب کی ادا ٹہرائی جا سکے؟ کیا ہم ضیاء اور اسکی روحانی اولاد کے پیدا کردہ ذہنی اور تخلیقی بحران کی سب سے نچلی سطح پر پہنچ گئے ہیں۔ اور منظر کچھ ایسا نظر آ رہا ہے کہ اس کے بعد اس سے ملتے جلتے ناموں کی کتب نما اشیاء کی بھرمار ہو گی، جیسے :مونچھ والا،بالوں والا،دو آنکھوں والا، ایک آنکھ والا،پنڈلیوں والا ۔۔۔سلسلہ چل ہی نکلا تو بھلا ہم کسی کے کہنے سے رک تھوڑی جائیں گے؟ بہت سے لوگ بلاگ لکھتے ہیں۔ بڑی اچھی بات ہے۔ اس احقر کے نکمے سے بلاگ کو پانچ لاکھ افراد پڑھ چکے ہیں۔ کل تک صحافی حضرات کالموں کا مجموعہ چھاپتے تھے اور جب سے صحافت “امیر کبیر” ہوئی ہے،اس کالم مجموعہ کو ادب کی صنف منوا لیتے تھے۔ اور اب تو یہ چلن عام ہو گیا ہے۔ اس سارئ تبدیلی میں ناشرین بھی بھلا پیچھے کیوں رہتے؟ کالم نویس ٹی وی سکرین سے اور یو ٹیوب سے متمول ہوتا گیا اور لوگ اسی شہرت کو فروخت کرنے لگے۔ تو بھلا ناشرین کیوں پیچھے رہتے؟ اچھا ایک اور بات، اردو میں ایک کمال کی خوبی ہے کہ اس میں لفظ کے ساتھ مہمل کا استعمال جائز متصور ہوتا ہے۔ کھانا وانا، پینا شینا، پڑھنا وڑھنا ۔۔۔ اب اس “چیز” کی طرف آئیں تو آپ اسے بڑے تیقن کے ساتھ “وتاب” کہہ لیں کیونکہ اسے کتاب کہنا ذرا جان جولھوں کا کام لگتا ہے۔گذشتہ دنوں ایک مداح نے نہایت خوبصورت بات کی کہ یہ کتاب نہیں ہے (اور میں ان سے صد فیصد متفق ہوں) بلکہ ایک گراموفون ہے۔ تو صاحبو اب بک کارنر جہلم والے کتب تو چھاپیں گے ہی، ساتھ ہی منہ اور ذہن کا ذائقہ بدلنے کے لئے گراموفون بھی فروخت کیا کریں گے۔اس وتاب کے شروع میں ہی ایک بلند و بانگ دعوی کیا گیا ہے کہ :“تحریریں جو آپکی سوچ کو نیا زاویہ دیں گی”اب بلاگر صاحب کو کوئی بتلائے کہ زاویہ صرف ۳۶۰ درجے کے اندر رہے تو زاویہ کہلانے کا مستحق ہے۔ ان حدود و قیود سے باہر جا کر وہ جو مرضی بن جائے، زاویہ کہلانے کا حقدار نہیں رہتا۔

مشتے نمونہ از کے طور پر “حجم” صاحب (حسنین جمال) کے چند عنوانات اور دوسری چیزیں ملاحظہ کریں:-غربت میں عظمت کے بھاشن-چٹا انکار (تو گویا اب کوئی کالا انکار بھی ہو گا)- سافٹ بچے- پوتے اور کرافٹوزم-موٹیویشنل کالم-اتھری غزل- کامیابی اور ریلیٹیویٹی۔ (ص ۸،۹،۱۰)آگے بڑھتے ہیں:- ساری بات میں بھاشن کی فیلنگ(ص۲۱)- انتظار کو سیلیبریٹ(ص ۲۲)- استھیٹک سینس لگا کر-لگژری کمرہ)ص ۲۶)-راتیں گنوانے والے ہو۔ رات تو گذاری جاتی ہے ورنہ رات بجھ جاتی ہے۔ (ص۳۳)اوپر والے فقرے سے آپ کیا معنی نکالیں گے؟ ص ۴۱ پر “پوسٹ سکرپٹم” کی اصطلاح اردو میں کس جگہ مستعمل ہے؟

مجھے نہ تو زبان میں تجربات پر اعتراض ہے نہ روایت شکنی پر۔ صرف اتنا عرض کرنا ہے کہ فقرہ بازی اور ادب میں ما بعد الطرفین کا فرق ہے اور سدا رہے گا۔ کل کو ببو برال کے مکالموں کا مجموعہ بھی شائع ہو سکتا ہے مگر اسے ادب میں جگہ نہ مل پائے گی۔اور ہاں یہ انکشاف پہلی بار ہوا ہے کہ شعاع سب رنگ جاسوسی، سسپنس اور دوسرے ڈائجسٹ پڑھ کر اب لوگ بہت شدید پڑھے لکھے کہلا سکتے ہیں!یا اللہ ہم پر اور ہماری زبان اور تہذیب پر رحم فرما۔

Published by Dr. Afaq Ahmad Qureshi

Physician, writer, broadcaster, journalist, translator, free lance writer, poet, political and social analyst and critic. Writes plays and features for electronic media, interested in numerous things from sociology to medicine to history and art. interest in books and internet, writes for http://www.blogcritic.com also; editor for an internet journal; at http://twitter.com/dr_afaqaq.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

My Notes: Dr. Afaq Ahmad Qureshi

Its about Pakistan, the world, the people, culture, and books.

ہم سب

ہم سب مل کر چلیں گے

A CUP OF COFFEE WITH YOUR CREATOR

WORDS TO ENCOURAGE YOU DAILY....TO ENCOUNTER LIFE WITH A NEW PERSPECTIVE

The Justice Mirror

Latest News, Analyses, Opinions, and much more.

TheKop Curva CrossOver

All Things Milan & Liverpool

%d bloggers like this: