ہم عظیم قوم ہیں! پاکستان کا عام آدمی بے شمار غلط فہمیوں میں زندگی گزارتا ہے۔ یہ تحریر اسی بارے میں ہے۔

کئی سو برس گزر گئے جب 712ء میں ہمارا بہادر سپہ سالار محمد بن قاسم دیبل کے ساحلوں پر لنگر انداز ہوا اور راجہ داہر کو شکست فاش دی۔ اس وقت سے لے کر ہم مسلمانوں نے 1857ء تک برصغیر پر حکومت کی۔ یہ مطلق العنان حکمران تھے۔ کسی کی مجال نہیں ہوتی تھی کہ وہ بادشاہ وقت کے انداز حکمرانی پر انگلی اٹھا سکے۔ ان میں سے کئی نے تو ثقافت، علم و ہنر اور لکھنے والوں کی سرپرستی بھی کی۔ لیکن کسی بھی دور میں کسی دانشور کی مجال نہیں تھی کہ وہ حکمرانی کا کوئی نیا انداز متعارف کروا سکے۔ ایسے بدتمیز کی تو وہ زبان گدی سے کھینچ لیا کرتے تھے۔ ماشا اللہ کیا رعب اور دبدبہ تھا ہمارے شاہوں کا۔دسویں صدی کے بعد کافروں کے یورپ نے احیاۓ علوم کو گلے لگا لیا تھا لیکن کمال ہے ہمارے بادشاہوں کا کہ انہوں نے ایسی بدعات کو اپنے سے کوسوں دور رکھا اور مطلق العنانیت کا علم بلند رکھا۔ اورنگ زیب عالمگیر کو جب جزائر برطانیہ کا پتا چلا تو اس نے ویسے اپنے اتالیق سے ضرور کہا تھا کہ آپ تو ہمیں یہ سکھاتے رہے کہ دنیا کی ابتدا اور انتہا ہمارا ہندوستان ہی ہے۔ ہمارے عظیم شاہوں کے دور میں علوم و فنون کا بول بالا ہوتا تھا۔ شاہجہاں نے تاج محل بنوانے کے بعد معماروں کی انگلیاں کاٹ ڈالی تھیں کہ کہیں وہ لالچی ہو کر اسی طرح کی کوئی اور عمارت نہ بنا پائیں۔ دیکھا آپ نے صاحب فن کا کتنا خیال رکھتے تھے وہ لوگ! اور ذرا ان کافروں کی دیدہ دلیری ملاحظہ کریں کہ صنعت و حرفت کو حرز جاں بنا بیٹھے اور کئی یونیورسٹیاں قائم کر ڈالیں۔ ان درس گاہوں نے مسقبل کے علم و دانش کی آبیاری کی اور پھر یورپ بھر سے نئے حقائق اور ایجادات کے دور کا آغاز ہو گیا۔ لیکن ہمارے بادشاہ دنیا کو اہمیت ہی کہاں دیتے تھے۔ انہیں علم تھا کہ انسان فانی ہے اسلئے رعایا کے بچوں کو لادین کیوں بنایا جائے؟ انہوں نے سختی سے ہر لادین جدوجہد کو مسل کے رکھ دیا ورنہ تو نیچ ذات کے بچے ڈگریاں حاصل کرکے خود کو حکومت کا اہل گردانتے۔ کتنی غلط روایت پڑ جاتی۔ ٹھیک ہے ہمارے مذہب میں ذات پات کی جگہ نہیں تھی لیکن آخر دنیاداری بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔ ہم نے بھی براہمن کے مقابلے میں سید لا کھڑے کئے اور جن لوگوں کو یورپ میں استاد کی جگہ دی گئی ہم نے انہیں لوہار، ترکھان، جولاہے اور کمی کمین قرار دیا تاکہ وہ علم حاصل کر کے اعلی نسلوں کی برابری کا سوچ بھی نہ سکیں۔ وہاں مونگ پھلی فروش اور بس کنڈکٹر کے بچے صدارت اور وزارت عظمی پر فائز ہوتے گئے اور ہم یہاں نسلی برتری کے احساس تفاخر میں غرق احتسابی روایات سے بالا بنتے چلے گئے۔ کیا ہوا اگر عالمگیر نے اپنے تمام بھائیوں کو قتل کروا دیا؟ خود تو بیچارے نے ٹوپیاں سی کر ہی سادہ زندگی گزاری نا!712ء سے 1857ء کے طویل عرصے میں ہمارے شاہوں نے مشاورت سے بالا ہو کر فیصلے کئے جس سے انکی خودداری کا بھی پتا چلتا ہے۔ دربار میں نمایاں مقام معدودے چند لوگوں کو عطا ہوتا تھا اسلئے وہ ان لوگوں کے لئے مختص تھا جو جی حضوری، خوشامد، اور قصیدہ گوئی میں سب سے اعلی تھے۔ ہماری ثقافت میں تو میرٹ نام کی کوئی چیز شامل ہی نہیں تھی اور اسی لئے آج بھی عہدے اور اعلی منصبوں پر صرف ہمارے احباب اور رشتے دار ہی فائز ہوتے ہیں!

جاری ہے ۔۔۔

Published by Dr. Afaq Ahmad Qureshi

Physician, writer, broadcaster, journalist, translator, free lance writer, poet, political and social analyst and critic. Writes plays and features for electronic media, interested in numerous things from sociology to medicine to history and art. interest in books and internet, writes for http://www.blogcritic.com also; editor for an internet journal; at http://twitter.com/dr_afaqaq.

One thought on “ہم عظیم قوم ہیں! پاکستان کا عام آدمی بے شمار غلط فہمیوں میں زندگی گزارتا ہے۔ یہ تحریر اسی بارے میں ہے۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

My Notes: Dr. Afaq Ahmad Qureshi

Its about Pakistan, the world, the people and the books

The Justice Mirror

A Mirror on Law, Religion and Polity

TheKop Curva CrossOver

All Things Milan and Liverpool

Learn 4 Free 2

Writing - Blogging - Marketing - Management

Hanging Odes

Aasem Bakhshi's Weblog: Essays, speculative indulgences, literary musings and a bit of pointless soliloquizing.

Seyahatname

Photography, travel, visual distraction

Melissa not dusting

Melissa Fischer. wild in Michigan. naturalist

Manage By Walking Around

Aligning Execution With Strategy

Sarah Dea Photography

A visual timekeeper

My Notes: Dr. Afaq Ahmad Qureshi

Its about Pakistan, the world, the people and the books

The Justice Mirror

A Mirror on Law, Religion and Polity

TheKop Curva CrossOver

All Things Milan and Liverpool

Learn 4 Free 2

Writing - Blogging - Marketing - Management

Hanging Odes

Aasem Bakhshi's Weblog: Essays, speculative indulgences, literary musings and a bit of pointless soliloquizing.

Seyahatname

Photography, travel, visual distraction

<span>%d</span> bloggers like this: