(ہم عظیم قوم ہیں! (گزشتہ سے پیوستہ) II

ایک عظیم الشان ماضی ہے ہمارا ۔ ہم اٹھتے بیٹھتے دنیا کو بتاتے ہیں کہ کس طرح ہمارے خلفاۓ راشدین نے انصاف اور عدل کے معیار قائم کئے۔ لیکن گھر واپس جا کر اور کام یا کاروبار کرتے وقت ہم ان سب معیارات کو فراموش کر دیتے ہیں۔ ہماری زیادہ آبادی دیہی ہے اور وہاں کا زمیندار / وڈیرہ ہمارے خدا ہیں۔ انہیں مکمل استحقاق ہے کہ وہ مزارعین کی بہو بیٹیوں کو عیاشی کے لئے اٹھا کر اپنے یا دوستوں کے ڈیرے پر لے جائیں۔ کاشتکار کی مٹھی بھر زمین کو پانی لگانے کے جرم میں موت سمیت کوئی بھی سزا دے سکتے ہیں۔ یہی لوگ ہمارے ممبران اسمبلی بنتے ہیں اور ہمارے حکمران بنتے ہیں۔ ستر سال سے یہ مکروہ کھیل جاری ہے لیکن عدل اور انصاف کی مجال نہیں کہ ہماری معاشرت میں مداخلت کر سکیں۔ ان لوگوں کے لئے مخالفین کو قتل کرنا ایک کھیل ہے جو وہ جی بھر کے کھیلتے ہیں۔ اس قتل کے جرم میں انہی کا کوئی مزارع تھانے اور جیل کی ہوا کھاتا ہے۔ بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ ان کے خداؤں کو سزا ہو۔ وہ بخوشی پھانسی کا پھندا اپنے گلے میں ڈال لیتے ہیں۔ انکی لینڈ کروزر اگر لاپرواہ ڈرائیونگ کی وجہ سے کسی سرکاری اہلکار کو کتے کی طرح کچل ڈالے تو ہماری اعلی عدالتیں انہیں شک کا فایدہ دیتے ہوئے بری کر دیتی ہیں تاکہ وہ اسمبلیوں میں جا کر ہماری نسلیں سنوار سکیں۔ ہم نے قسم کھائی ہے کہ ہم اسوقت تک کسی کو ووٹ نہیں دیں گے جب تک وہ ایک چمچماتی ہوئی 3000 سی سی سے زائد انجن کی مہیب مگر آرام دہ جیپ میں ہمارے علاقے کا دورہ نہ کرے۔ اسکی جہالت تو اسکا طرہ امتیاز ہے۔ بھلا رعب داب کے بغیر بھی کوئی حکمران بن سکتا ہے؟ شہروں میں ہم صنعتکار اور سرمایہ دار کو پوجتے ہیں۔ آخر کسی اور میں اتنی سکت کہاں کہ وہ باقاعدگی سے ہمارے گھروں میں راشن بھیج سکے۔ ہمارے بچوں کو اپنے ہاں ملازمت دے سکے اور ہماری ضرورت کے موبائل فون دلوا سکے؟ ہم بھلا کسی پڑھے لکھے متوسط آدمی کا انتخاب کیوں کریں؟ وہ تو تھانیدار کو کہہ کر ہمارے غنڈوں کو نہیں چھڑائے گا۔ ہماری تو ساری زندگی ہی اس جدوجہد میں گزرتی ہے کہ قبیلے یا خاندان میں ہماری ٹوہر ہو، لوگ مشکل وقت میں ہمارے در پر گڑگڑائیں اور مدد کی بھیک مانگیں۔ یہ ہوتا ہے اونچے شملے کی شان و شوکت کا مظاہرہ! یہی مقصد حیات ہے۔ اور بھئی انصاف اور عدل تو کوئی ہمارے خلفاء راشدین سے سیکھے!

II(ہم عظیم قوم ہیں! (گزشتہ سے پیوستہ

Published by Dr. Afaq Ahmad Qureshi

Physician, writer, broadcaster, journalist, translator, free lance writer, poet, political and social analyst and critic. Writes plays and features for electronic media, interested in numerous things from sociology to medicine to history and art. interest in books and internet, writes for http://www.blogcritic.com also; editor for an internet journal; at http://twitter.com/dr_afaqaq.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

My Notes: Dr. Afaq Ahmad Qureshi

Its about Pakistan, the world, the people and the books

The Justice Mirror

A Mirror on Law, Religion and Polity

TheKop Curva CrossOver

All Things Milan and Liverpool

Learn 4 Free 2

Writing - Blogging - Marketing - Management

Hanging Odes

Aasem Bakhshi's Weblog: Essays, speculative indulgences, literary musings and a bit of pointless soliloquizing.

Seyahatname

Photography, travel, visual distraction

Melissa not dusting

Melissa Fischer. wild in Michigan. naturalist

Manage By Walking Around

Aligning Execution With Strategy

Sarah Dea Photography

A visual timekeeper

My Notes: Dr. Afaq Ahmad Qureshi

Its about Pakistan, the world, the people and the books

The Justice Mirror

A Mirror on Law, Religion and Polity

TheKop Curva CrossOver

All Things Milan and Liverpool

Learn 4 Free 2

Writing - Blogging - Marketing - Management

Hanging Odes

Aasem Bakhshi's Weblog: Essays, speculative indulgences, literary musings and a bit of pointless soliloquizing.

Seyahatname

Photography, travel, visual distraction

<span>%d</span> bloggers like this: