ہم عظیم قوم ہیں (١)

پاکستانی عوام اور خواص کی ماضی پرستی اور ذہنی الجھاؤ کا جائزہ

تحریر : ڈاکٹر آفاق احمد قریشی۔

ہمارے عہد کی اس سے زیادہ بدقسمتی کیا ہو سکتی ہے کہ وصی شاہ اور فرحت عباس کو ترجمان شعراء اور عمیرہ احمد اور نمرہ احمد کو ترجمان نثر کہا اور سمجھا جا رہا ہے۔ ہم نے سطحیت کی ساری حدیں عبور کر لی ہیں اور بڑی کامیابی سے۔ ہمارا سارا وقت پلاٹ اور جائداد کی خواہشوں میں گزرتا ہے ٫ جنس مخالف سے ناجائز تعلقات کی حرص اور تمنا میں گزرتا ہے اور باقی کا وقت اچھے اور لذیذ کھابوں کی تلاش میں صرف ہوتا ہے۔ ہم ہر لمحہ شریعت کے نفاذ کا نعرہ لگاتے ہیں اور ساری دنیا میں فحش ویب سائٹس کو تلاش کرنے والی سب سے بڑی قوم ہیں۔ ہم ہر سال لاکھوں کی تعداد میں تبلیغی جلسوں میں روح پرور بیانات پر سر دھنتے ہیں ہیں اور واپس جا کر اپنے کاروبار اور ملازمت میں ہر قسم کی بد دیانتی اور جھوٹ سے کام لینا شروع کر دیتے ہیں۔ ہم جنت کے لئے پیر پکڑ لیتے ہیں اور مطمئن ہو کر پہلے سے زیادہ بد کرداری کا مظاہرہ کرتے ہیں اور اپنے کو دین اور دنیا کا کامیاب ترین شخص تصور کرتے ہیں۔ ہم عظیم قوم ہیں-

ایک عظیم الشان ماضی ہے ہمارا ۔ ہم اٹھتے بیٹھتے دنیا کو بتاتے ہیں کہ کس طرح ہمارے خلفاۓ راشدین نے انصاف اور عدل کے معیار قائم کئے۔ لیکن گھر واپس جا کر اور کام یا کاروبار کرتے وقت ہم ان سب معیارات کو فراموش کر دیتے ہیں۔ ہماری زیادہ آبادی دیہی ہے اور وہاں کا زمیندار / وڈیرہ ہمارے خدا ہیں۔ انہیں مکمل استحقاق ہے کہ وہ مزارعین کی بہو بیٹیوں کو عیاشی کے لئے اٹھا کر اپنے یا دوستوں کے ڈیرے پر لے جائیں۔ کاشتکار کی مٹھی بھر زمین کو پانی لگانے کے جرم میں موت سمیت کوئی بھی سزا دے سکتے ہیں۔ یہی لوگ ہمارے ممبران اسمبلی بنتے ہیں اور ہمارے حکمران بنتے ہیں۔ ستر سال سے یہ مکروہ کھیل جاری ہے لیکن عدل اور انصاف کی مجال نہیں کہ ہماری معاشرت میں مداخلت کر سکیں۔ ان لوگوں کے لئے مخالفین کو قتل کرنا ایک کھیل ہے جو وہ جی بھر کے کھیلتے ہیں۔ اس قتل کے جرم میں انہی کا کوئی مزارع تھانے اور جیل کی ہوا کھاتا ہے۔ بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ ان کے خداؤں کو سزا ہو۔ وہ بخوشی پھانسی کا پھندا اپنے گلے میں ڈال لیتے ہیں۔ انکی لینڈ کروزر اگر لاپرواہ ڈرائیونگ کی وجہ سے کسی سرکاری اہلکار کو کتے کی طرح کچل ڈالے تو ہماری اعلی عدالتیں انہیں شک کا فایدہ دیتے ہوئے بری کر دیتی ہیں تاکہ وہ اسمبلیوں میں جا کر ہماری نسلیں سنوار سکیں۔ ہم نے قسم کھائی ہے کہ ہم اسوقت تک کسی کو ووٹ نہیں دیں گے جب تک وہ ایک چمچماتی ہوئی 3000 سی سی سے زائد انجن کی مہیب مگر آرام دہ جیپ میں ہمارے علاقے کا دورہ نہ کرے۔ اسکی جہالت تو اسکا طرہ امتیاز ہے۔ بھلا رعب داب کے بغیر بھی کوئی حکمران بن سکتا ہے؟ شہروں میں ہم صنعتکار اور سرمایہ دار کو پوجتے ہیں۔ آخر کسی اور میں اتنی سکت کہاں کہ وہ باقاعدگی سے ہمارے گھروں میں راشن بھیج سکے۔ ہمارے بچوں کو اپنے ہاں ملازمت دے سکے اور ہماری ضرورت کے موبائل فون دلوا سکے؟ ہم بھلا کسی پڑھے لکھے متوسط آدمی کا انتخاب کیوں کریں؟ وہ تو تھانیدار کو کہہ کر ہمارے غنڈوں کو نہیں چھڑائے گا۔ ہماری تو ساری زندگی ہی اس جدوجہد میں گزرتی ہے کہ قبیلے یا خاندان میں ہماری ٹوہر ہو، لوگ مشکل وقت میں ہمارے در پر گڑگڑائیں اور مدد کی بھیک مانگیں۔ یہ ہوتا ہے اونچے شملے کی شان و شوکت کا مظاہرہ! یہی مقصد حیات ہے۔ اور بھئی انصاف اور عدل تو کوئی ہمارے خلفاء -راشدین سے سیکھے

(جاری ہے…)

Published by Dr. Afaq Ahmad Qureshi

Physician, writer, broadcaster, journalist, translator, free lance writer, poet, political and social analyst and critic. Writes plays and features for electronic media, interested in numerous things from sociology to medicine to history and art. interest in books and internet, writes for http://www.blogcritic.com also; editor for an internet journal; at http://twitter.com/dr_afaqaq.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

My Notes: Dr. Afaq Ahmad Qureshi

Its about Pakistan, the world, the people, culture, and books.

ہم سب

ہم سب مل کر چلیں گے

A CUP OF COFFEE WITH YOUR CREATOR

WORDS TO ENCOURAGE YOU DAILY....TO ENCOUNTER LIFE WITH A NEW PERSPECTIVE

The Justice Mirror

Latest News, Analyses, Opinions, and much more.

TheKop Curva CrossOver

All Things Milan & Liverpool

%d bloggers like this: